نواں درس:نماز کی اہمیت اور جنتیوں کے درجات کا فرق

عبادت کی لذت کا احساس ، عبادت کے دوام کا راز ہے۔

عبادت کے جاری رکھنے میں ضروری یہ ہے کہ انسان عبادت سے لطف اندوز ہو اور اس بات کا احساس کرے کہ اس سے وہ بہرہ مند ہورہا ہے ۔ جس کام میں انسان کو مزہ نہ آئے اس سے وہ جلدی تھک جاتا ہے۔ عبادت کی لذت اس بات کا باعث ہوتی ہے کہ انسان اس میں زیادہ دلچسپی لے اور یہ لذت اور مٹھاس گناہ کے ترک کئے بغیر حاصل نہیں ہوتی ۔ نافرمانی اور گناہ کے باعث انسان کو عبادت میں مزہ نہیں آتا۔ اسی وجہ سے بعض معصومین کی یہ دعا ہوتی تھی کہ خدایا اپنی عبادت کی لذت اور مٹھاس چکھا۔
ہوسکتا ہے مریض کے لئے عمدا غذا تیار کی جائے لیکن بیمار ہونے کی وجہ سے اسے اس میں مزہ نہ آئے۔ اسی کے برعکس صحت مند اور بھوکا شخص روٹی کا ایک ٹکڑا کھا کر بھی لطف اندوز ہولے ۔ اسی طرح عبادت سے لطف اندوز ہونااور اس کی ضرورت کا احساس انسان میں زندہ ہونا چاہیے۔
گذشتہ مطالب میں اس بات کی طرف اشارہ ہوا ہے کہ پیغمبر نے فرمایا میری نماز سے دلچسپی بھوکے کے لئے کھانے اور پیاسے کے لئے پانی سے زیادہ ہے، کیونکہ بھوکا کھانا کھانے سے اور پیاسا پانی پینے سے سیراب ہوجاتا ہے لیکن میں نماز سے سیراب نہیں ہوتا۔
امام جعفر صادق خدا کی بندگی کے شیفتہ اور عاشق کے ذہن میں عبادت کی شیرینی اور مٹھاس کے بارے میں فرماتے ہیں:

۔۔۔۔ الا وانک لو وجدت حلاوة عبادة اللہ ورایت برکاتھا واستضات بنورھا، لم تصبر عنھا ساعة واحدة ، ولو قطعت اربا (مستدرک الوسائل جلد ۱۱، باب ۱۷، صفحہ ۲۵۳)

اگر بندگی خدا کی لذت کو پالو ، اس کی برکات کو دیکھ لو اور اس کے نور سے اپنے دل کو روشن کرلو تو ایک لحظہ کے لئے عبادت سے ہاتھ نہ اٹھاو ٴ گے چاہے تمہارے ٹکڑے ٹکڑے ہی کیوں نہ کردئے جائیں۔

        پچھلا درس         پچھلا عنوان فہرست اگلا عنوان